امتحانی قواعد و ضوابط
وہ قواعد جن کے تحت بورڈ امتحان لیتا ہے، نمبر دیتا ہے، نتائج کا اعلان کرتا ہے اور اسناد جاری کرتا ہے۔ یہ ہر امیدوار پر لاگو ہوتے ہیں۔
- حوالہ نمبر
- GBTPE/REG/EXAM/2026-06
- نافذ العمل از
- 1 ستمبر، 2026
امتحانی قواعد و ضوابط
1دائرہ کار اور نفاذ
یہ قواعد گلوبل بورڈ آف ٹیکنیکل اینڈ پروفیشنل ایجوکیشن کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والے ہر امتحان پر لاگو ہوتے ہیں، خواہ امیدوار کسی الحاق شدہ ادارے کے ذریعے رجسٹرڈ ہو یا براہِ راست بورڈ کے پاس۔
بورڈ کی اسناد نیشنل ووکیشنل کوالیفیکیشنز فریم ورک کے مطابق ترتیب دی گئی ہیں۔ جہاں کوئی پروگرام کسی سطح پر پیش کیا جاتا ہے، وہ سطح کورس کے صفحے اور سند دونوں پر درج ہوتی ہے۔
یہ قواعد مذکورہ تاریخ سے نافذ ہیں۔ پہلے سے منعقد شدہ امتحان پر وہی قواعد لاگو ہوں گے جو اُس دن نافذ تھے۔
2امتحان میں شرکت کی اہلیت
امیدوار صرف اُسی صورت میں امتحان دے سکتا ہے جب بورڈ نے اُس کورس کے لیے اُس کا اندراج منظور کر لیا ہو اور رجسٹریشن فیس موصول ہو چکی ہو۔
ہر امیدوار کا رجسٹریشن نمبر تاحیات ایک ہی رہتا ہے۔ ہر کورس کے لیے الگ رول نمبر اور تکمیل پر الگ سند نمبر جاری ہوتا ہے۔
الحاق شدہ ادارہ صرف اُنہی ٹریڈز میں امیدوار پیش کر سکتا ہے جن کے لیے اُسے الحاق حاصل ہے۔
3رول نمبر سلپ
رول نمبر امتحان کے اعلان کے وقت الاٹ ہوتا ہے، اُس سے پہلے نہیں۔ ہر کورس کے لیے دو سلپ جاری ہوتی ہیں:
- ایک تحریری امتحان کے لیے
- ایک عملی امتحان کے لیے
دونوں امتحانات مختلف تاریخوں میں، اور بورڈ کے فیصلے کے مطابق مختلف مقامات پر منعقد ہوتے ہیں۔ ہر سلپ پر اپنا رول نمبر، تاریخ، وقت اور مقام درج ہوتا ہے۔
سلپ امیدوار کے پورٹل اکاؤنٹ میں فراہم کی جاتی ہے اور ای میل کے ذریعے اطلاع دی جاتی ہے۔ امیدوار کے لیے سلپ پرنٹ کر کے لانا لازم ہے۔
پرنٹ شدہ رول نمبر سلپ اور اصل شناختی کارڈ یا ب-فارم کے بغیر کسی امیدوار کو امتحان میں شریک ہونے کی اجازت نہیں۔ فوٹو کاپی یا تصویر قابلِ قبول نہیں۔
ہر سلپ پر کیو آر کوڈ ہوتا ہے جس کی تصدیق کوئی بھی آن لائن کر سکتا ہے۔ اختلاف کی صورت میں بورڈ کا ریکارڈ ہی معتبر ہے۔
4امتحانی مراکز
تحریری امتحانات بورڈ کے مقرر کردہ مراکز میں منعقد ہوتے ہیں۔
عملی امتحان یا تو رجسٹرڈ اسیسمنٹ سینٹر میں ہوتا ہے یا الحاق شدہ ادارے میں۔ فیصلہ بورڈ کرتا ہے اور رول نمبر سلپ پر درج ہوتا ہے۔ امیدوار صرف اپنی سلپ پر درج مقام پر حاضر ہو۔
سلپ جاری ہونے کے بعد امتحان منسوخ ہو تو منسوخی امیدوار کے پورٹل اور تصدیقی صفحے پر ظاہر ہوتی ہے۔ منسوخ امتحان کے لیے سفر نہ کیا جائے۔
5امتحانی ضابطۂ اخلاق
امیدوار سلپ پر درج وقت سے پہلے اپنی نشست پر بیٹھ جائیں۔ پرچہ شروع ہونے کے بعد داخلہ مرکز کے سپرنٹنڈنٹ کی صوابدید پر ہے اور ریکارڈ کیا جاتا ہے۔
درج ذیل اشیاء امتحان گاہ میں لے جانا ممنوع ہے:
- موبائل فون اور معلومات محفوظ یا منتقل کرنے والا کوئی بھی آلہ
- نوٹس، کتابیں یا کوئی تحریری مواد، الا یہ کہ پرچہ اجازت دے
- کوئی بھی شے جس پر سپرنٹنڈنٹ نے تحریری پابندی لگائی ہو
امیدوار ہر جوابی شیٹ پر اپنا رول نمبر لکھے، اور اپنا نام یا کوئی ایسا نشان نہ لکھے جس سے شناخت ہو سکے۔
6امیدواروں کی جانچ کا طریقہ
بورڈ دو طریقے استعمال کرتا ہے۔ کون سا لاگو ہوگا، یہ پروگرام طے کرتا ہے اور اندراج سے پہلے کورس کے صفحے پر درج ہوتا ہے۔
نمبروں پر مبنی امتحان — روایتی کورسز کے لیے۔ کل نمبر ہر کورس کے لیے مختلف ہوتے ہیں اور رول نمبر سلپ اور ڈیٹ شیٹ پر درج ہوتے ہیں۔ گریڈنگ کے لیے قاعدہ 7 دیکھیں۔
قابلیت پر مبنی جانچ — سی بی ٹی اینڈ اے پروگراموں اور آر پی ایل کے لیے۔ امیدوار کو شائع شدہ معیارات کے مطابق ‘اہل’ یا ‘ابھی اہل نہیں’ قرار دیا جاتا ہے۔ نہ نمبر ہیں، نہ فیصد، نہ گریڈ۔ ہر لازمی معیار مکمل طور پر پورا کرنا ضروری ہے۔
‘ابھی اہل نہیں’ ایک مرحلہ ہے، حتمی فیصلہ نہیں۔ ایسا امیدوار تربیت دہرائے بغیر دوبارہ جانچ دے سکتا ہے۔
تحریری پرچہ دو میں سے ایک طریقے سے لیا جاتا ہے، اور دونوں میں پرچہ اور سوالات کا انداز یکساں ہوتا ہے:
- کمپیوٹر پر، مرکز میں اسکرین کے ذریعے
- کاغذ پر، پرنٹ شدہ بَبل (او ایم آر) جوابی شیٹ پر
ہر سوال کے چار جوابات ہوتے ہیں جن میں سے صرف ایک درست ہے۔ بَبل شیٹ پر ایک ہی خانہ مکمل بھریں۔ ایک سوال کے لیے ایک سے زیادہ خانے بھرنے پر اُس سوال کا کوئی نمبر نہیں ملے گا۔
بصارت سے محروم امیدوار، یا کوئی بھی امیدوار جس کی منظور شدہ خصوصی ضرورت ہو، وہی پرچہ دیتا ہے اور اُسے بورڈ کی منظور کردہ مناسب سہولیات دی جاتی ہیں۔ اِن میں اضافی وقت، نمایاں یا بڑے حروف والا پرچہ، الگ کمرہ، یا اُس امیدوار کے لیے منظور شدہ معاونت شامل ہو سکتی ہے۔
کمپیوٹر پر مبنی پرچے کے لیے صوتی معاونت وہاں فراہم کی جاتی ہے جہاں یہ سہولت امتحانی مرکز میں تکنیکی طور پر دستیاب ہو اور امیدوار کے لیے منظور ہو۔ کسی بھی سہولت کے خواہش مند امیدوار امتحانی فارم جمع کراتے وقت بورڈ کو مطلع کریں، تاکہ دستیاب سہولت کی تصدیق اور بندوبست وقت سے پہلے ہو سکے۔
7کامیابی کے نمبر اور گریڈ
یہ قاعدہ صرف نمبروں پر مبنی امتحان پر لاگو ہے۔ قابلیت پر مبنی جانچ میں کامیابی کے نمبر یا گریڈ نہیں ہوتے — قاعدہ 6.3 دیکھیں۔
ہر کورس کے کل نمبر مختلف ہوتے ہیں۔ کل نمبر بورڈ ہر امتحان کے لیے مقرر کرتا ہے اور یہ ڈیٹ شیٹ اور رول نمبر سلپ پر درج ہوتے ہیں۔
کامیابی کے لیے کم از کم 40 فیصد حاصل کرنا لازم ہے۔ چونکہ کل نمبر مختلف ہوتے ہیں، اس لیے کامیابی کا معیار ہمیشہ فیصد میں شمار کیا جاتا ہے۔
جہاں پروگرام میں تحریری اور عملی امتحان الگ الگ ہوں، وہاں 40 فیصد ہر ایک میں الگ سے اور مجموعی طور پر بھی لازم ہے۔ ایک میں زیادہ نمبر دوسرے کی ناکامی کی تلافی نہیں کرتے:
- تحریری 35 اور عملی 70 کا مجموعہ 52.5 فیصد بنتا ہے، مگر یہ ناکامی ہے کیونکہ تحریری 40 فیصد سے کم ہے۔
- تحریری 45 اور عملی 55 کا مجموعہ 50 فیصد بنتا ہے، اور یہ کامیابی ہے۔
نتائج درج ذیل پیمانے پر دیے جاتے ہیں۔ F بھی ایک گریڈ ہے جو باقاعدہ دیا جاتا ہے:
- A+ — 80 فیصد اور اس سے زیادہ
- A — 70 تا 79 فیصد
- B — 60 تا 69 فیصد
- C — 50 تا 59 فیصد
- D — 40 تا 49 فیصد
- F — 40 فیصد سے کم
کسی پروگرام کی منظور شدہ اسکیم مختلف پیمانہ یا مختلف شرطِ کامیابی مقرر کرے تو وہی لاگو ہوگی۔ ایسی صورت میں نافذ پیمانہ نتیجے اور سند پر درج ہوتا ہے، اور امیدوار پر وہی پیمانہ لاگو رہتا ہے جس کے تحت اُس نے امتحان دیا۔
غیر حاضر امیدوار کی جانچ نہیں ہوتی۔ غیر حاضری ناکامی نہیں اور اِس پر نمبر یا فیصد نہیں دیا جاتا؛ تاہم وہ پرچہ غیر کامیاب شمار ہوتا ہے اور دوبارہ دینا ہوگا۔
8سابقہ سیکھنے کی شناخت (آر پی ایل)
آر پی ایل اُن امیدواروں کے لیے ہے جو ہنر رکھتے ہیں اور تربیت دہرائے بغیر سند چاہتے ہیں۔ آر پی ایل میں تحریری پرچہ نہیں ہوتا۔
شواہد کو بورڈ کی کمیٹی پانچ معیارات پر 100 نمبروں میں جانچتی ہے:
- تعلیمی قابلیت — 20 نمبر
- تجربہ — 10 نمبر
- پورٹ فولیو: آجر کے حوالہ جاتی خطوط اور نمونۂ کار — 20 نمبر
- تکنیکی انٹرویو — 10 نمبر
- دو عملی ٹیسٹ — 40 نمبر
100 میں سے 70 یا اُس سے زیادہ نمبر لینے والا امیدوار حتمی جانچ کے لیے اہل قرار پاتا ہے۔ یہ شرطِ اہلیت ہے اور قاعدہ 7.3 کے 40 فیصد سے الگ اور بلند ہے، جو آر پی ایل پر لاگو نہیں ہوتا۔
حتمی جانچ قابلیت پر مبنی ہوتی ہے۔ نتیجہ ‘اہل’ یا ‘ابھی اہل نہیں’ ہوتا ہے، اور جاری ہونے والی سند ‘سرٹیفکیٹ آف کمپیٹنسی’ ہے جس پر گریڈ نہیں ہوتا۔
جانچ شیٹ پر کمیٹی کا سربراہ اور ایک شاملِ رائے رکن دستخط کرتے ہیں۔ نتیجے پر اعتراض کی صورت میں کمیٹی کے تحریری ریمارکس مکمل فراہم کیے جاتے ہیں۔
9ناجائز ذرائع
درج ذیل امور ناجائز ذرائع میں شمار ہوتے ہیں:
- ممنوعہ مواد یا آلے کا رکھنا یا استعمال
- امتحان کے دوران کسی دوسرے امیدوار سے رابطہ
- جعل سازی، یا اپنی جگہ کسی اور کو بٹھانا
- رول نمبر سلپ، جوابی شیٹ، نتیجے یا سند میں تبدیلی یا اس کی کوشش
- سپرنٹنڈنٹ کی جائز ہدایت ماننے سے انکار
ناجائز ذرائع کا معاملہ سپرنٹنڈنٹ رپورٹ کرتا ہے اور فیصلہ بورڈ کرتا ہے، مرکز نہیں۔ فیصلے سے پہلے امیدوار کو الزام سے آگاہ کر کے جواب کا موقع دیا جاتا ہے۔
ثابت ہونے پر بورڈ پرچہ منسوخ کر سکتا ہے، کورس کا نتیجہ منسوخ کر سکتا ہے، یا امیدوار کو مقررہ مدت کے لیے محروم کر سکتا ہے۔ جعل سازی پر رجسٹریشن منسوخی کے لیے بھیجی جاتی ہے۔
10نتائج کا اعلان
نتائج بورڈ جاری کرتا ہے اور اپنی ویب سائٹ پر شائع کرتا ہے۔ کسی مرکز یا ادارے کے کہنے سے قطع نظر، نتیجہ اُسی وقت سرکاری ہے جب وہاں شائع ہو۔
نتیجہ تین میں سے ایک صورت میں جاری ہوتا ہے:
- کامیاب — ہر لازمی پرچہ اور جزو کامیاب، اور مطلوبہ مجموعی فیصد حاصل۔
- دوبارہ شرکت — ایک یا زیادہ پرچوں میں ناکامی، جو قاعدہ 11.2A کے تحت دوبارہ دیے جائیں گے۔ کامیاب پرچے برقرار رہتے ہیں۔
- ناکام — پورا امتحان دوبارہ دینا ہوگا۔
بورڈ کے شائع شدہ ریکارڈ اور امیدوار کے پاس موجود کسی دستاویز میں اختلاف کی صورت میں بورڈ کا ریکارڈ معتبر ہے، اور امیدوار اختلاف کی اطلاع دے۔
11دوبارہ جانچ اور دوبارہ امتحان
دوبارہ جانچ صرف حسابی اور دفتری پڑتال ہے: ہر سوال کی مارکنگ، نمبروں کا درست جمع، اور کل کا درست اندراج۔ پرچہ دوبارہ مارک نہیں ہوتا۔
دوبارہ امتحان کا مطلب اگلے امتحان میں پرچہ دوبارہ دینا ہے۔ ‘ابھی اہل نہیں’ قرار پانے والا امیدوار تربیت دہرائے بغیر دوبارہ جانچ دے سکتا ہے۔
دوبارہ شرکت: جو امیدوار ایک یا زیادہ پرچوں میں ناکام ہو مگر پورے امتحان میں نہیں، وہ صرف اُنہی پرچوں میں دوبارہ شریک ہوتا ہے جن میں ناکام ہوا۔ کامیاب پرچے برقرار رہتے ہیں اور دوبارہ نہیں دینے پڑتے۔ دوبارہ پرچہ دینے پر دونوں میں سے بہتر نمبر شمار ہوں گے۔
- ایک تحریری پرچے میں ناکامی — صرف اُسی پرچے میں دوبارہ شرکت۔
- ایک عملی امتحان میں ناکامی — صرف اُسی عملی امتحان میں دوبارہ شرکت۔
- تمام پرچوں میں کامیابی — دوبارہ شرکت کی ضرورت نہیں۔
بورڈ یہ حد مقرر کر سکتا ہے کہ امیدوار کتنے پرچے دوبارہ شرکت میں لے جا سکتا ہے اور ایک پرچے میں کتنے مواقع ملیں گے۔ حد سے تجاوز کی صورت میں پورا امتحان دوبارہ دینا ہوگا۔ کوئی بھی حد نتیجے کے ساتھ بتائی جاتی ہے۔
دونوں کے لیے بورڈ کے فارم پر درخواست دی جاتی ہے اور دونوں قابلِ ادائیگی ہیں۔ دوبارہ جانچ کی فیس فی پرچہ 1,500 روپے ہے۔ دوبارہ امتحان کی فیس فی پرچہ 3,700 روپے ہے، اور یہی فیس قاعدہ 11.2A کے تحت دوبارہ شرکت والے پرچے پر بھی لاگو ہوتی ہے — دونوں صورتوں کے لیے ایک ہی فیس۔ فیس بورڈ کے جاری کردہ بینک چالان کے ذریعے ادا کی جاتی ہے۔ دوبارہ جانچ کی درخواست نتیجے کی اشاعت کی تاریخ سے 15 کیلنڈر دن اور دوبارہ امتحان کی درخواست 90 کیلنڈر دن کے اندر بورڈ کو موصول ہونی چاہیے۔ اگر کسی مخصوص امتحان کے لیے مختلف آخری تاریخ مقرر کی جائے تو وہ نتیجے کے ساتھ بتائی جاتی ہے اور وہی لاگو ہوگی۔
امتحان اور سند کی فیس ناقابلِ واپسی ہے۔ اس میں وہ امیدوار بھی شامل ہے جو حاضر نہ ہو، جس کا نتیجہ روکا جائے، یا جس کا اندراج فیس کی وصولی کے بعد منسوخ ہو۔
اگر دوبارہ جانچ سے بورڈ کی غلطی ثابت ہو تو درست نتیجہ جاری کیا جاتا ہے اور اُس امیدوار کی دوبارہ جانچ کی فیس واپس کر دی جاتی ہے۔
12اپیل
جو امیدوار سمجھے کہ اُس کے امتحان سے متعلق بورڈ کا فیصلہ درست نہیں، وہ بورڈ کی اپیل کمیٹی سے رجوع کر سکتا ہے۔
اپیل بورڈ کے اپیل فارم پر ہو اور اُس کے ساتھ درج ذیل منسلک ہوں:
- امیدوار کے شناختی کارڈ یا ب-فارم کی نقل
- بیانِ حلفی کہ اپیل میں درج مندرجات درست ہیں
- کوئی بھی معاون دستاویزات
- پروسیسنگ فیس کے چالان کی رسید
اپیل میں واضح لکھا جائے کہ کس بات پر اعتراض ہے اور کیا ازالہ مطلوب ہے۔ اپیل انگریزی یا اردو میں لکھی جا سکتی ہے۔
کمیٹی کا فیصلہ وجوہات کے ساتھ تحریری طور پر بتایا جاتا ہے۔ بورڈ اسیسر کی علمی رائے کے خلاف اپیل نہیں سنتا، صرف طریقۂ کار کے خلاف۔
13اسناد
قاعدہ 7 کے تحت کامیاب کورس پر ‘سرٹیفکیٹ آف کمپلیشن’ جاری ہوتا ہے۔ قابلیت پر مبنی جانچ اور آر پی ایل پر ‘سرٹیفکیٹ آف کمپیٹنسی’ جاری ہوتا ہے، جس پر گریڈ نہیں ہوتا۔
ہر سند پر منفرد سند نمبر اور کیو آر کوڈ ہوتا ہے، جس کی تصدیق کوئی بھی، کسی بھی وقت، بورڈ کی ویب سائٹ پر مفت کر سکتا ہے۔
سند کی تبدیلی یا منسوخی کے بعد بھی تصدیق ممکن رہتی ہے اور تصدیقی صفحہ حالت بتاتا ہے۔ بورڈ کوئی ریکارڈ چھپانے کے لیے حذف نہیں کرتا۔
نقل سند یا کسی اندراج کی درستی کے لیے بورڈ کے فارم پر درخواست دی جائے اور چالان کے ذریعے فیس ادا ہو۔ نام یا تاریخِ پیدائش کی درستی صرف اصل شناختی کارڈ یا ب-فارم کے مطابق ہوتی ہے۔
14قواعد میں ترمیم
بورڈ اِن قواعد میں ترمیم کر سکتا ہے۔ ترمیم نئے حوالہ نمبر اور تاریخِ نفاذ کے ساتھ اِسی صفحے پر شائع ہوتی ہے، اور پہلے سے منعقد امتحان پر لاگو نہیں ہوتی۔
اِن قواعد کے انگریزی اور اردو متن میں اختلاف کی صورت میں انگریزی متن معتبر ہوگا۔
اگر آپ کے امتحان سے متعلق کوئی فیصلہ اِن قواعد کے مطابق نہ ہو تو بورڈ کو لکھیں، اپنا رجسٹریشن نمبر اور متعلقہ قاعدہ درج کریں۔ اپیل کا طریقہ قاعدہ 12 میں دیا گیا ہے۔





